در بدر
قسم کلام: متعلق فعل
معنی
١ - ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر، آوارہ سرگرداں۔ ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر تو مجھے یارو بھنور سا لگے ( ١٩٧٨ء، سکوت شب، ١١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'در' کے ساتھ 'ب' حرف جار اور 'در' کا مرکب لگایا گیا ہے۔ یہ 'در' کی تکرار زور پیدا کرنے کے لیے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔